ہوں الگ طور کا بیمار اے رسولِ مختار
ہوں الگ طور کا بیمار اے رسولِ مختار
ہے علاج آپ کا دیدار اے رسولِ مختار
میری تسکین کی صورت ہے تو صورت تیری
نین بے چین دل افگار اے رسول مختار
کر دیا نازشِ جمعہ ترے مولد نے وہ دن
جس سے ما قبل ہے اتوار اے رسول مختار
ہر زمانے میں ولایت کو پرکھنے کے لیے
تیرے اخلاق ہیں معیار اے رسول مختار
متنِ وحدت کے اولو العزم جو ٹھہرے شراح
ہیں ترے حاشیہ بردار اے رسول مختار
فرع کا فعل ہے جب اصل کی جانب راجع
تو تو کعبے کا ہے معمار اے رسول مختار
سب گلستان ترے واسطے مخلوق ہوئے
بہرِ خالق ترا رخسار اے رسول مختار
معتدل چال میں بھی سب سے مقدم ہی رہے
معجزہ ہے تری رفتار اے رسول مختار
ذرہ ذرہ ہے ترے علم میں جیسے یوں ہی
تری قدرت میں ہے سنسار اے رسول مختار
سائلِ دید معظمؔ نے یہ سن رکھا ہے
آپ کرتے نہیں انکار اے رسول مختار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.