مطلعِ نورِ الٰہی ہے نہارِ عارض
مطلعِ نورِ الٰہی ہے نہارِ عارض
مصدرِ ہشت جناں فیضِ بہارِ عارض
اے سیہ کارو تمہیں طلعتِ بخشش کی نوید
للہ الحمد کہ ہے زلف کنار عارض
جیسے تفسیرِ جلالین ہو گردِ مصحف
ایسے ہی خط ہے یمین اور یسارِ عارض
تیغِ تنویر سے کردوں گا ابھی تجھ کو ہلاک
میں ہوں اے ظلمتِ غم عاشقِ زارِ عارض
شعلۂ جرم نہ کیوں گلشنِ حسنات بنے
نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
فن مہکتا ہے کہ ہے واصفِ زلفِ مشکیں
حرف روشن ہیں کہ ہیں مدح نگارِ عارض
چاہِ یوسف ذقنِ سیدِ عالم کی جھلک
نورِ کل حسنِ جہاں آئینہ دارِ عارض
حسنِ صورت کی نہیں اس میں معظمؔ تخصیص
قاسمِ جملہ محاسن ہے وقارِ عارض
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.