کفیلِ عظمتِ قرطاس و افتخارِ قلم
کفیلِ عظمتِ قرطاس و افتخارِ قلم
حضور آپ کی مدحت ہے اعتبارِ قلم
سرِ ورق جو گلِ اسمِ شہ مہکتا ہے
اسی سے خلد بداماں ہے ریگ زار قلم
سرِ بیاں ہے قلم خلقِ اولین جہاں
پسِ بیاں ہے وہاں تو ہی پردہ دارِ قلم
ثنائے سرورِ عالم میں ہے کشش ایسی
کہ خود ہے شانۂ قرطاس زیرِ بارِ قلم
عروسِ قطرۂ مدحت پہ وارنے کے لیے
ہیں بے شمار جواہر بکف بحارِ قلم
کہوں گا سہوِ قلم ماسوائے مدحت کو
رہی ثنا تو ہے واللہ شاہکارِ قلم
ثنائے گل کو معظمؔ چمن بنے کیسے
کھلا سکی نہیں اک پھول بھی بہارِ قلم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.