ہم تو کرتے ہیں ثنا از پئے تحصیلِ کمال
ہم تو کرتے ہیں ثنا از پئے تحصیلِ کمال
غیرِ خالق سے وگرنہ ہے تری نعت محال
نطقِ ہر ناطقہ کا حسن ہے نطقِ یوحیٰ
جملہ جملوں کا تجمل ترے جملوں کا جمال
وجہ تزئینِ تکلم تری صورت کا بیان
فخرِ الفاظ و معانی تری سیرت کی مقال
کیسے گلہائے جناں ہوں ترے لب کی مانند
آئینہ کب ہے بھلا تیری جبیں کی تمثال
شاخِ طوبیٰ ہو کہاں ہمسرِ بازوئے حضور
چشمۂ دستِ سخا کی نہیں تسنیم مثال
تا کہ پھر میری توقع سے زیادہ مل جائے
ان کو کرتا ہوں ثواب اپنا میں سارا ایصال
کنزِ تمدیح معظمؔ ہے میسر جن کو
گردشِ وقت سے کیسے ہوں بھلا وہ کنگال
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.