Font by Mehr Nastaliq Web

فروغِ بزمِ عالم کا سبب اور رہنما کہیے

محمد آصف نوری

فروغِ بزمِ عالم کا سبب اور رہنما کہیے

محمد آصف نوری

MORE BYمحمد آصف نوری

    فروغِ بزمِ عالم کا سبب اور رہنما کہیے

    ازل کا راز کہیے یا ابد کا سلسلہ کہیے

    جہاں کی اصل کہیے یا وجودِ کائناتِ جود

    محمد مصطفیٰ کہیے امام الانبیا کہیے

    فلک کس نور سے روشن زمیں کس کے قدم سے باغ

    سحر کس کی تجلی سے ہوئی عالم میں وا کہیے

    کیا کس نے پیام انسانیت کا عام دنیا میں

    یہ کس نے امنِ عالم کا بتایا راستہ کہیے

    بتایا کس نے دنیا کو مقام و عظمتِ نسواں

    ضعیفوں کا سہارا کون ہے اس کے سوا کہیے

    یہ کون آیا ہے بیواؤں کے حق کی بات کرنے کو

    یتیموں کے لیے درّ یتیم و آسرا کہیے

    کوئی محبوب اپنا دے محبت بھی کرے لازم

    سنا ہے اس سے پہلے کوئی ایسا واقعہ کہیے

    وہ جس کی پیروی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے

    اسی کو دہر کا اول سے آخر مقتدا کہیے

    لگا دیجے سبھی احکامِ شرع و دیں مرے اوپر

    مگر جو ان کا دیوانہ ہے دیوانے کو کیا کہیے

    جمالِ مصطفائی ہے کہیں خون حسینی ہے

    کہیں خاک شفا کہیے کہیں کرب و بلا کہیے

    کوئی ہو نورِ کامل اور ہو انسانِ کامل بھی

    ہوا ہے کون ایسا ماسوائے مصطفیٰ کہیے

    زمیں تا آسماں برپا صدائے ھا و ھو کیوں ہے

    یہ کس کے واسطے ہر سو صدائے مرحبا کہیے

    جہاں تاریک تھا ہر چار سو تھی جبر و سفاکی

    مٹایا کس نے دنیا سے اندھیرا اور جفا کہیے

    بروزِ حشر ہو یا سرگزشتِ غم سنانے کو

    کسی کو اس نے چھوڑا ہے کبھی بے آسرا کہیے

    یہ کیسی بات ہے عاشق کو یہ بتلانا پڑ جائے

    جب ان کا نام آئے مرحبا صلیٰ علی کہیے

    خیال آئینہ الفاظ آبگینہ معرفت نامہ

    جو کہیے نعت آقا کی بہ اندازِ رضا کہیے

    محمد حامد و محمود اور حماد و احمد بھی

    خدا جس کو سراہے اس کو آصفؔ کیا سے کیا کہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے