آپ کا جوں ہی ہونٹوں پہ نام آئے گا
آپ کا جوں ہی ہونٹوں پہ نام آئے گا
مشکلوں کا وہیں اختتام آئے گا
دل میں حسرت ہے میرے یہ شام و سحر
کب مدینے سے مجھ کو پیام آئے گا
جس کا سرکار پر ہو چکا ہے نزول
تا قیامت نہ ایسا کلام آئے گا
مقتدی جس کے اقصیٰ میں تھے انبیا
بعد ان کے نہ ایسا امام آئے گا
آپ کے عشق میں جو تڑپتا رہے
اس کے ہاتھوں میں کوثر کا جام آئے گا
پھر چٹکتی رہے گی وہاں چاندنی
جب لحد میں وہ ماہِ تمام آئے گا
دامنِ مصطفی تھام لو عاصیو
حشر میں یہ وسیلہ ہی کام آئے گا
عرض کرتا ہے آصفؔ یہی رات دن
آپ کے در پہ کب یہ غلام آئے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.