آپ شہِ ابرار ہوئے ہیں
آپ شہِ ابرار ہوئے ہیں
دو جگ کے سردار ہوئے ہیں
ان کی اطاعت کرنے والے
جنت کے حق دار ہوئے ہیں
ان کی رحمت ڈھال بنی ہے
جب بھی مجھ پر وار ہوئے ہیں
دور ہوئے جو ان کے در سے
در در یوں ہی خوار ہوئے ہیں
جو ہیں بھکاری ان کے نگر کے
کس نے کہا نادار ہوئے ہیں
جس دم ان کی نعت پڑھی ہے
رحمت کے آثار ہوئے ہیں
جن رستوں سے گزرے آقا
کتنے خوشبودار ہوئے ہیں
قدموں میں جو ان کے سوئے
بخت ان کے بیدارہوئے ہیں
جوں ہی نام لیا ہے ان کا
پَل میں پُل سے پار ہوئے ہیں
یہ ہے کرم سرکار کا آصفؔ
نعت کے جو اشعار ہوئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.