کرو نہ واعظو حور و قصور کی باتیں
کرو نہ واعظو حور و قصور کی باتیں
سناؤ مجھ کو فقط تم حضور کی باتیں
کبھی ہو ذکرِ مدینہ کبھی ہو ذکرِ رسول
تمام عمر ہوں ایسی سرور کی باتیں
زبور ہو کہ ہو توریت یا کہ ہو انجیل
ہوئی ہیں سب میں نبی کے ظہور کی باتیں
خدا کا شکر کہ ایمان بالیقیں ہے مِرا
حضور سنتے ہیں نزدیک و دور کی باتیں
عطا ہوئی ہیں پیمبر کو عظمتیں کیا کیا
نہیں احاطۂ عقل و شعور کی باتیں
ہوئی جو آپ کو معراج اس کا کیا کہنا
اگرچہ حق ہیں وہ موسیٰ سے طور کی باتیں
کلامِ پا ک میں میرے خدا نے کیں آصفؔ
حضور ہی کے حوالے سے نور کی باتیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.