رکھتا ہوں دل میں کتنے ہی ارمان آپ کے
رکھتا ہوں دل میں کتنے ہی ارمان آپ کے
قدموں میں پیش کردوں دل و جان آپ کے
کر لیں ہمیں قبول بس اپنی جناب میں
سرکار بن کے آئے ہیں مہمان آپ کے
دشمن کے جور و ظلم کو کرتے رہے معاف
کس کس پہ اے کریم ہیں احسان آپ کے
حسرت ہے آؤں آپ کے دربار پر میں پھر
ہو جائوں کاش قدموں پہ قربان آپ کے
آقا کریں گے سب کی شفاعت بروزِ حشر
ہوں گے حوالے سارے پریشان آپ کے
آصفؔ بھی کاش آکے پڑھے نعت اس طرح
پڑھتے تھے جیسے سامنے حسان آپ کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.