مجھ پہ سرکارِدوعالم کے ہیں احساں کتنے
مجھ پہ سرکارِ دوعالم کے ہیں احساں کتنے
ہیں مگر اک شبِ دیدار کے ارماں کتنے
یاد جب رحمتِ عالم کو کیا مشکل میں
یک بیک مرحلے مجھ پہ ہوئے آساں کتنے
عشقِ سرکار اگر دل میں بسا لو اپنے
ہاتھ بخشش کے لیے آئیں گے ساماں کتنے
میری کشتی کے نگہبان ہیں میرے آقا
کچھ نہیں خوف کہ اب آئیں گے طوفاں کتنے
اب تو سرکار مجھے بھی یہ سعادت بخشیں
پیش ہوتے ہیں وہاں روز ہی مہماں کتنے
بھیک جاری ہے چلے آؤ درِ اقدس پر
بھر چکے آپ کے فیضان سے داماں کتنے
اذنِ سرکار نہ ہو تو نہیں ممکن آصفؔ
وہ بلائیں تو نکل آتے ہیں امکاں کتنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.