حرا سے پھوٹی پہلی روشنی ہے
حرا سے پھوٹی پہلی روشنی ہے
بہر سو روشنی ہی روشنی ہے
مدینے میں دیا ہے ایک روشن
زمانے بھر میں جس کی روشنی ہے
میں ان کے در کے زائر دیکھ لوں تو
مرے دل میں اترتی روشنی ہے
سیاہی کا یہاں پر کام ہے کیا
مدینہ ہے چمکتی روشنی ہے
ذرا تم نام ان کا لکھ کے چومو
تو دیکھو ملتی کتنی روشنی ہے
جو رکھتے ہیں محبت مصطفیٰ کی
لحد میں ان کی رہتی روشنی ہے
تمنا ہے کہ دیکھوں میں بھی آصفؔ
ہرے گنبد کی کیسی روشنی ہے
دلِ آصفؔ کیا ہے جس نے روشن
وہ بس مہرِ حرا کی روشنی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.