کرم آقائے ہر عالم کا ہم پر کیوں نہیں ہوگا
کرم آقائے ہر عالم کا ہم پر کیوں نہیں ہوگا
وسیلہ آل کا ہو کام بہتر کیوں نہیں ہوگا
لگی ہے لو مدینے سے مرے تاریک دل کی جب
نگاہِ لطفِ آقا سے منور کیوں نہیں ہوگا
گہر بن جائے پل بھر میں نظر اٹھے جو ذرے پر
اشارے سے گدا ان کا سکندر کیوں نہیں ہوگا
جو آ جائے گا سلطانِ مدینہ کی غلامی میں
ہمیشہ اوج پر اس کا مقدر کیوں نہیں ہوگا
جہاں پہ ہر گھڑی ہوتا ہو ذکرِ سرور عالم
خدا کے نور سے پُر نور وہ گھر کیوں نہیں ہوگا
دکھائی دیتا ہے جو خواب میں منظر مواجہ کا
نظر کے سامنے اک دن یہ منظر کیوں نہیں ہوگا
وہ اپنی زلف لہراتے ہوئے تشریف لائیں گے
لحد کا گوشہ گوشہ پھر معنبر کیوں نہیں ہوگا
وہ خود تشریف لاکر ہاتھ سینے پر رکھیں آصفؔ
سکوں میں پھر مرا یہ قلبِ مضطر کیوں نہیں ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.