دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ نبی کا
دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ نبی کا
حسین و حسن فاطمہ اور علی کا
جہاں بادشہ بھی ہیں دامن پسارے
خوشا کہ گدا ہوں میں ایسے سخی کا
مدینے میں سرکار مجھ کو بلا لیں
میں ہوں منتظر کب سے ایسی گھڑی کا
کلامِ خدا جن و انس و ملک میں
کہاں پر نہیں ذکر ان کی گلی کا
مدینے میں یا رب مجھے موت آئے
یہی مدعا ہے مری زندگی گا
مدینے کا اک خار مل جائے آصفؔ
میں طالب نہیں پھول کا یا کلی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.