ابتدا حضور ہیں انتہا حضور ہیں
ابتدا حضور ہیں انتہا حضور ہیں
مقتدی ہیں انبیا مقتدأ حضور ہیں
پوری آب و تاب سے ساری کائنات میں
جو کرے ہے روشنی وہ دیا حضور ہیں
باقی سب فریب ہے اور سارا جھوٹ ہے
زندگی گزارنے کا ضابطہ حضور ہیں
جب نہ تھے ملائکہ اور نہ کائنات تھی
حرفِ کن سے قبل کا واقعہ حضور ہیں
ان کے دم سے رحمتیں عام ہیں جہان میں
رب کی رحمتوں کا ایک سلسلہ حضور ہیں
آصفِؔ حزیں نہ ڈر ان پہ تو یقین کر
عاصیوں کا حشر میں آسرا حضور ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.