Font by Mehr Nastaliq Web

ابتدا حضور ہیں انتہا حضور ہیں

محمد آصف قادری

ابتدا حضور ہیں انتہا حضور ہیں

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    ابتدا حضور ہیں انتہا حضور ہیں

    مقتدی ہیں انبیا مقتدأ حضور ہیں

    پوری آب و تاب سے ساری کائنات میں

    جو کرے ہے روشنی وہ دیا حضور ہیں

    باقی سب فریب ہے اور سارا جھوٹ ہے

    زندگی گزارنے کا ضابطہ حضور ہیں

    جب نہ تھے ملائکہ اور نہ کائنات تھی

    حرفِ کن سے قبل کا واقعہ حضور ہیں

    ان کے دم سے رحمتیں عام ہیں جہان میں

    رب کی رحمتوں کا ایک سلسلہ حضور ہیں

    آصفِؔ حزیں نہ ڈر ان پہ تو یقین کر

    عاصیوں کا حشر میں آسرا حضور ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے