Font by Mehr Nastaliq Web

جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے

محمد آصف قادری

جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے

    اسے پھر کسی چیز کی کیا کمی ہے

    وہ شمس الضحیٰ ہیں وہ بدرالدجیٰ ہیں

    جو پھیلی ہے ہر سو یہی روشنی ہے

    بہار ان کے دم سے ہے ہر دم چمن میں

    انہی کی بدولت کھلی ہر کلی ہے

    نہ در ان کے در سا کوئی ہے جہاں میں

    نہ ان کی گلی جیسی کوئی گلی ہے

    ملا ہے مجھے جب سے سرکار کا غم

    مرے چار جانب خوشی ہی خوشی ہے

    پکاروں نہ کیوں اپنے آقا کو آصفؔ

    اسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے