جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے
جسے ان کے در کی گدائی ملی ہے
اسے پھر کسی چیز کی کیا کمی ہے
وہ شمس الضحیٰ ہیں وہ بدرالدجیٰ ہیں
جو پھیلی ہے ہر سو یہی روشنی ہے
بہار ان کے دم سے ہے ہر دم چمن میں
انہی کی بدولت کھلی ہر کلی ہے
نہ در ان کے در سا کوئی ہے جہاں میں
نہ ان کی گلی جیسی کوئی گلی ہے
ملا ہے مجھے جب سے سرکار کا غم
مرے چار جانب خوشی ہی خوشی ہے
پکاروں نہ کیوں اپنے آقا کو آصفؔ
اسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.