کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب
کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب
مجھ کو فقط ہے رحمتِ سرکار کی طلب
اب تو حضور خواب میں تشریف لائیے
کب سے ہے مجھ کو آپ کے دیدار کی طلب
صحرائے طیبہ جس نے بھی دیکھا ہے ایک بار
اس کو ہوئی نہ پھر گل و گلزار کی طلب
دونوں جہاں میں راحتیں پانے کے واسطے
رکھتا ہوں ان کے سایۂ دیوار کی طلب
احوال عرض کرنے کی حاجت نہیں مجھے
وہ جانتے ہیں عاجز و بیمار کی طلب
چشمِ کرم حضور کی آصفؔ پہ جب ہوئی
دل میں رہی نہ درہم و دینار کی طلب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.