Font by Mehr Nastaliq Web

کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب

محمد آصف قادری

کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    کب ہے مہ و نجوم کے انوار کی طلب

    مجھ کو فقط ہے رحمتِ سرکار کی طلب

    اب تو حضور خواب میں تشریف لائیے

    کب سے ہے مجھ کو آپ کے دیدار کی طلب

    صحرائے طیبہ جس نے بھی دیکھا ہے ایک بار

    اس کو ہوئی نہ پھر گل و گلزار کی طلب

    دونوں جہاں میں راحتیں پانے کے واسطے

    رکھتا ہوں ان کے سایۂ دیوار کی طلب

    احوال عرض کرنے کی حاجت نہیں مجھے

    وہ جانتے ہیں عاجز و بیمار کی طلب

    چشمِ کرم حضور کی آصفؔ پہ جب ہوئی

    دل میں رہی نہ درہم و دینار کی طلب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے