Font by Mehr Nastaliq Web

دو عالم میں جو نور پھیلا ہوا ہے

محمد آصف قادری

دو عالم میں جو نور پھیلا ہوا ہے

محمد آصف قادری

MORE BYمحمد آصف قادری

    دو عالم میں جو نور پھیلا ہوا ہے

    یہ مہرِ حرا سے اجالا ہوا ہے

    گدا پر کرم ان کا ایسا ہوا ہے

    نہ سہما کبھی اور نہ تنہا ہوا ہے

    برستی ہے رب کی سدا اس پہ رحمت

    درِ مصطفیٰ جس نے تھاما ہوا ہے

    نہ بھائے گا ان کو کوئی اور منظر

    مدینہ جن آنکھوں نے دیکھا ہوا ہے

    نظر پڑ گئی جس پہ میرے نبی کی

    کہیں پہ بھی پھر وہ نہ رسوا ہوا ہے

    اسے یہ زمانہ گرائے گا کیسے

    جسے مصطفیٰ نے سنبھالا ہوا ہے

    بکھیرے گا کیسے کوئی ہم کو آصفؔ

    محبت نے ان کی سمیٹا ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے