دو عالم میں جو نور پھیلا ہوا ہے
دو عالم میں جو نور پھیلا ہوا ہے
یہ مہرِ حرا سے اجالا ہوا ہے
گدا پر کرم ان کا ایسا ہوا ہے
نہ سہما کبھی اور نہ تنہا ہوا ہے
برستی ہے رب کی سدا اس پہ رحمت
درِ مصطفیٰ جس نے تھاما ہوا ہے
نہ بھائے گا ان کو کوئی اور منظر
مدینہ جن آنکھوں نے دیکھا ہوا ہے
نظر پڑ گئی جس پہ میرے نبی کی
کہیں پہ بھی پھر وہ نہ رسوا ہوا ہے
اسے یہ زمانہ گرائے گا کیسے
جسے مصطفیٰ نے سنبھالا ہوا ہے
بکھیرے گا کیسے کوئی ہم کو آصفؔ
محبت نے ان کی سمیٹا ہوا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.