ہے مرکز مدینہ ہے محور مدینہ
ہے مرکز مدینہ ہے محور مدینہ
سبھی عاشقوں کا ہے دلبر مدینہ
میرے دل کی دنیا بدل سی گئی ہے
ہُوا نقش جب سے ہے دل پر مدینہ
مری کشتیٔ شوق اس میں رواں ہے
کہ ہے نور کا اک سمندر مدینہ
کسی کا کوئی اور اگر ہے تو ہو گا
مرا مدعا ہے برابر مدینہ
میں خود موت کا خیر مقدم کروں گا
ملے بہرِ مدفن مجھے گر مدینہ
جیوں بھی مروں بھی مدینے میں آصفؔ
میں جائوں گا حسرت یہ لے کر مدینہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.