غلامانِ سرکار یاد آرہے ہیں
غلامانِ سرکار یاد آرہے ہیں
وہ اعوان وانصار یاد آرہے ہیں
جو چون و چرا جانتے ہی نہیں تھے
خدا کے وفادار یاد آرہے ہیں
خدا ان سے راضی وہ راضی خدا سے
محبت کے بیمار یاد آرہے ہیں
ہے خود دین کو ناز جن ہستیوں پر
وہی مجھ کو دین دار یاد آرہے ہیں
جو پیتے تھے ہر دم شرابِ محبت
وہی مجھ کو میخوار یاد آرہے ہیں
مسخر ہوئے جن سے اغیار کے دل
وہ اخلاق و کردار یاد آرہے ہیں
وہ صدیق و فاروق و عثمان و حیدر
وہ ابرار و اخیار یاد آرہے ہیں
لٹا دی خدا کے لیے ساری دولت
وہ امت کے سردار یاد آرہے ہیں
وہ دو نور والے رفیقِ پیمبر
وہ عثمان زردار یاد آرہے ہیں
تھے حسان جو عاشق فخرِ عالم
ہمیں ان کے اشعار یاد آرہے ہیں
میں جنت کو بھی بھول بیٹھا ہوں اب تو
صحابہ کے گھر بار یاد آرہے ہیں
محبت صحابہ کی پیدا ہو جن سے
وہ اخبار و آثار یاد آرہے ہیں
تڑپنے لگا دل مرا اللہ اللہ
مدینہ کے کہسار یاد آرہے ہیں
وہ حرمین کے رات دن اللہ اللہ
وہ برکار و انوار یاد آرہے ہیں
غلامانِ احمد پہ قربان احمدؔ
حقیقی وہ احرار یاد آرہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.