قیامت ہے ترا نزدیک رہ کر دور ہو جانا
قیامت ہے ترا نزدیک رہ کر دور ہو جانا
نظر کے سامنے رہتے ہوئے مستور ہو جانا
کوئی انکار کر سکتا ہے یہ تو اک حقیقت ہے
ترے آتے ہی محفل کا مری پُرنور ہو جانا
ترا اٹھ کر چلا جانا قیامت ہے قیامت ہے
غضب ہے روز روشن کا شب دیجور ہو جانا
ارے ناداں نہ سمجھے گا یہ اسرار محبت ہیں
کبھی رنجور ہو جانا کبھی مسرور ہو جانا
بجز اس کے کہو کیا تیری نظروں کی کرامت ہے
کسی کامئے نہ پینا اور پھر مخمور ہو جانا
تعلق سے غنی کے ہوگیا غیروں سے مستغنی
پسند آئے نہ کیوں ان کو مرا مغرور ہو جانا
یہ اکرامِ محبت ہے یہ انعامِ محبت ہے
کہ اس کے فضل سے ذاکر کا بھی مذکور ہو جانا
یہی جان محبت ہے یہی روح اطاعت ہے
ترا مختار ہونا اور مرا مجبور ہو جانا
ہو دریائے کرم جب جوش پر میدان محشر میں
تو کیا مشکل ہے اک عاصی کا بھی مغفور ہو جانا
وہ مالک ہیں جسے چاہیں نوازیں اپنی رحمت سے
نہیں دیکھا ہے کیا ذوالنار کا ذوالنور ہو جانا
جو ہیں اہل محبت بس وہی اس کو سمجھتے ہیں
کسی کا دیکھ لینا درد کا کافور ہو جانا
اگر آزاد ہم ہوتے خدا جانے کہاں ہوتے
مبارک عاشقوں کے واسطے دستور ہو جانا
یہ وہ دولت ہے جس پر جنت الفردوس قرباں ہو
کسی کی یاد میں احمدؔ سراپا نور ہو جانا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.