Font by Mehr Nastaliq Web

قیامت ہے ترا نزدیک رہ کر دور ہو جانا

محمد احمد پرتاپ گڑھی

قیامت ہے ترا نزدیک رہ کر دور ہو جانا

محمد احمد پرتاپ گڑھی

MORE BYمحمد احمد پرتاپ گڑھی

    قیامت ہے ترا نزدیک رہ کر دور ہو جانا

    نظر کے سامنے رہتے ہوئے مستور ہو جانا

    کوئی انکار کر سکتا ہے یہ تو اک حقیقت ہے

    ترے آتے ہی محفل کا مری پُرنور ہو جانا

    ترا اٹھ کر چلا جانا قیامت ہے قیامت ہے

    غضب ہے روز روشن کا شب دیجور ہو جانا

    ارے ناداں نہ سمجھے گا یہ اسرار محبت ہیں

    کبھی رنجور ہو جانا کبھی مسرور ہو جانا

    بجز اس کے کہو کیا تیری نظروں کی کرامت ہے

    کسی کامئے نہ پینا اور پھر مخمور ہو جانا

    تعلق سے غنی کے ہوگیا غیروں سے مستغنی

    پسند آئے نہ کیوں ان کو مرا مغرور ہو جانا

    یہ اکرامِ محبت ہے یہ انعامِ محبت ہے

    کہ اس کے فضل سے ذاکر کا بھی مذکور ہو جانا

    یہی جان محبت ہے یہی روح اطاعت ہے

    ترا مختار ہونا اور مرا مجبور ہو جانا

    ہو دریائے کرم جب جوش پر میدان محشر میں

    تو کیا مشکل ہے اک عاصی کا بھی مغفور ہو جانا

    وہ مالک ہیں جسے چاہیں نوازیں اپنی رحمت سے

    نہیں دیکھا ہے کیا ذوالنار کا ذوالنور ہو جانا

    جو ہیں اہل محبت بس وہی اس کو سمجھتے ہیں

    کسی کا دیکھ لینا درد کا کافور ہو جانا

    اگر آزاد ہم ہوتے خدا جانے کہاں ہوتے

    مبارک عاشقوں کے واسطے دستور ہو جانا

    یہ وہ دولت ہے جس پر جنت الفردوس قرباں ہو

    کسی کی یاد میں احمدؔ سراپا نور ہو جانا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے