جب زباں پر محمد کا نام آگیا
جب زباں پر محمد کا نام آگیا
دوستو! زندگی کا پیام آگیا
آگیا انبیا کا امام آگیا
لے کے فیضان دارالسلام آگیا
تیرے در پر جو خیرالانام آگیا
اس کے ہاتھوں میں عرفاں کا جام آگیا
ساز و سامان عیش دوام آگیا
یعنی حکم سجود و قیام آگیا
اللہ اللہ ہوئی دل کی دنیا حسیں
جب مقدر سے حسن تمام آگیا
پاگیا پا گیا حاصل زندگی
در پہ آقا کے جس دم غلام آگیا
دور ظلمت ہوئی دل منور ہوا
جب مدینہ میں ماہِ تمام آگیا
ان کی مرضی نظر آئی رشک جناں
عشق میں ایک ایسا مقام آگیا
لائے تشریف جب سیدالمرسلیں
خلد دنیا بنی وہ نظام آگیا
ظلم رخصت ہوا عدل قائم ہوا
عشق کے ہاتھ میں انتظام آگیا
تیرے ابرِ کرم سے شہِ انبیا
ہو کے سیراب ہر تشنہ کام آگیا
فیضِ ساقیٔ کونین صلِ علیٰ
جو بھی چاہے پئے اذنِ عام آگیا
تیری برکت سے اے سیدِ انس و جاں
صبح روشن ہوئی کیفِ شام آگیا
آپ کی مدح انسان کیا کرسکے
عرش سے جب درود و سلام آگیا
قلب شاداں ہوا روح رقصاں ہوئی
لب پہ احمدؔ کا شیریں کلام آگیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.