صبا مست ہو کر پھر آنے لگی
صبا مست ہو کر پھر آنے لگی
پیامِ محبت سنانے لگی
تصور میں کس کو یہ لانے لگی
مرے دل پہ بجلی گرانے لگی
مدینہ کی پھر یاد آنے لگی
جنونِ محبت بڑھانے لگی
وہ آٹھ آٹھ آنسو رلانے لگی
کہ پھر آگ دل میں لگانے لگی
کچھ اس طرح نغمے سنانے لگی
مجھے مرغ بسمل بنانے لگی
مرے دل کی کلیاں کھلانے لگی
کہ فصل بہاراں پھر آنے لگی
شرابِ تصور پلانے لگی
مجھے مست و بے خود بنانے لگی
دوانہ مجھے پھر بنانے لگی
ہنسانے لگی اور رلانے لگی
نہ جانے مجھے کیا دکھانے لگی
بہار قبا یاد آنے لگی
مری تشنگی پھر بڑھانے لگی
مجھے یاد زمزم کی آنے لگی
یہ کس واسطے میں تڑپنے لگا
صدا کیا یہ کانوں میں آنے لگی
مسرت سے کیوں جھومنے میں لگا
یہ کیا مجھ کو مژدہ سنانے لگی
مبارک مبارک یہ امید و بیم
محبت کا نقشہ دکھانے لگی
پڑھو کیوں نہ دل سے درود و سلام
مجھے لذت دید آنے لگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.