Font by Mehr Nastaliq Web

تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے

محمد علی ظہوری

تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے

محمد علی ظہوری

MORE BYمحمد علی ظہوری

    تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے

    جسے دیکھنی ہو جنت وہ مدینہ دیکھ آئے

    نہ یہ بات شان سے ہے نہ یہ بات مال و زر کی

    وہی جاتا ہے مدینے آقا جسے بلائیں

    کیسے وہاں کے دن ہیں کیسی وہاں کی راتیں

    انہیں پوچھ لو نبی کا جو مدینہ دیکھ آئے

    جو مدینے لمحے گزرے جو مدینے دن گزارے

    وہی لمحے زندگی ہیں وہی میرے کام آئے

    طیبہ کو جانے والے تجھے دیتی ہوں دعائیں

    درِ مصطفیٰ پے جا کے تو جہاں کو بھول جائے

    روضے کے سامنے میں یہ دعائیں مانگتی تھی

    میری جاں نکل تو جائے یہ سما بدل نہ جائے

    لو چلی ہوں میں لحد میں میرے مصطفیٰ سے کہہ دو

    کہ ہوا تیری گلی کی مجھے چھوڑنے کو آئے

    وہی غم گسار میرا وہ ظہوریؔ یار میرا

    میری قبر پر جو آئے نعتِ نبی سنائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے