جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
اس کی قسمت پہ فدا ساری خدائی ہوگی
سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی
یہ ہَوا کوچہ سرکار سے آئی ہوگی
روزِ محشر نہ کوئی اور سہارا ہوگا
سب کے ہونٹوں پہ محمد کی دہائی ہوگی
چاند قدموں پہ گرا ان کا اشارا جو ہوا
وقت کیسا تھا وہ جب انگلی اٹھائی ہوگی
دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا
تیری جس وقت مدینے سے جدائی ہوگی
تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوریؔ کچھ بھی
قبر میں نعتِ نبی تونے سنائی ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.