Font by Mehr Nastaliq Web

جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی

محمد علی ظہوری

جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی

محمد علی ظہوری

MORE BYمحمد علی ظہوری

    جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی

    اس کی قسمت پہ فدا ساری خدائی ہوگی

    سانس لیتا ہوں تو آتی ہے مہک طیبہ کی

    یہ ہَوا کوچہ سرکار سے آئی ہوگی

    روزِ محشر نہ کوئی اور سہارا ہوگا

    سب کے ہونٹوں پہ محمد کی دہائی ہوگی

    چاند قدموں پہ گرا ان کا اشارا جو ہوا

    وقت کیسا تھا وہ جب انگلی اٹھائی ہوگی

    دل تڑپ جائے گا اے زائرِ بطحا تیرا

    تیری جس وقت مدینے سے جدائی ہوگی

    تجھ سے پوچھا نہ نکیروں نے ظہوریؔ کچھ بھی

    قبر میں نعتِ نبی تونے سنائی ہوگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے