Font by Mehr Nastaliq Web

آج بھی عام ہیں ان کے جلوے پر کوئی دیکھ سکتا نہیں ہے

محمد انور

آج بھی عام ہیں ان کے جلوے پر کوئی دیکھ سکتا نہیں ہے

محمد انور

MORE BYمحمد انور

    آج بھی عام ہیں ان کے جلوے پر کوئی دیکھ سکتا نہیں ہے

    سب کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں ان کے چہرہ پہ پردہ نہیں ہے

    شیشہ پتھر سے ٹکرا کے ٹوٹا ٹوٹنے کی صدا سب نے سن لی

    دل اگر ٹوٹ جائے کسی کا کوئی آواز سنتا نہیں ہے

    یہ محبت نہیں ہے تو کیا ہے یہ حقیقت نہیں ہے تو کیا ہے

    جان ہم ان پر دیتے ہیں انورؔ جن کو آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Shan-e-Yaqoobi (Pg. 151)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے