آج بھی عام ہیں ان کے جلوے پر کوئی دیکھ سکتا نہیں ہے
آج بھی عام ہیں ان کے جلوے پر کوئی دیکھ سکتا نہیں ہے
سب کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں ان کے چہرہ پہ پردہ نہیں ہے
شیشہ پتھر سے ٹکرا کے ٹوٹا ٹوٹنے کی صدا سب نے سن لی
دل اگر ٹوٹ جائے کسی کا کوئی آواز سنتا نہیں ہے
یہ محبت نہیں ہے تو کیا ہے یہ حقیقت نہیں ہے تو کیا ہے
جان ہم ان پر دیتے ہیں انورؔ جن کو آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے
- کتاب : Shan-e-Yaqoobi (Pg. 151)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.