میں سجدہ کروں یا کہ دل کو سنبھا لوں محمد کی چوکھٹ نظر آ رہی ہے
میں سجدہ کروں یا کہ دل کو سنبھا لوں محمد کی چوکھٹ نظر آ رہی ہے
محمد بخش مسلمؔ
MORE BYمحمد بخش مسلمؔ
میں سجدہ کروں یا کہ دل کو سنبھا لوں محمد کی چوکھٹ نظر آ رہی ہے
اسی بے خودی میں کہیں کھو نہ جاؤں تڑپ کملی والے کی تڑپا رہی ہے
دو عالم کا داتا میرے سامنے ہے کہ کعبے کا کعبہ میرے سامنے ہے
ادا کیوں نہ فرض محبت کروں میں خدا کی خدائی جھکی جا رہی ہے
گلے میں ہیں زلفیں تو نیچی نگاہیں نظر چومتی ہے مدینے کی راہیں
ادا کیوں نہ فرض محبت کروں میں محمد کی جوگن چلی آ رہی ہے
فقیری کا مجھ میں نہیں ہے سلیقہ نہ آتا ہے کچھ مانگنے کا طریقہ
ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد زمانے کی جھولی بھری جا رہی ہے
فرشتو سرِ راہ آنکھیں بچھا دو اٹھو بہر تعظیم سر کو جھکا دو
خدا کہہ رہا ہے میرے دل رہا کی وہ دیکھو سواری چلی آ رہی ہے
یہ فرمایا حق نے کہ پیارے محمد ہمارے ہو تم ہم تمہارے محمد
ہمیں اپنے جلوؤں میں اے کملی والے تمہاری ہی صورت نظر آ رہی ہے
یہ جذبِ محبت ہے رحمت خدا کی ہے چوکھٹ مرے سامنے مصطفیٰ کی
مجھے کیوں نہ ہو ناز قسمت پہ مسلمؔ محبت کہاں سے کہاں لا رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.