محمد کا نہ در ملتا تو دیوانے کہاں جاتے
محمد کا نہ در ملتا تو دیوانے کہاں جاتے
لگی دل کی بجھانے کو یہ مستانے کہاں جاتے
غریبوں بے سہاروں کو، اگر نہ آسرا ملتا
تو یہ تقدیر کے مارے خدا جانے کہاں جاتے
اگر اپنوں کو ہی لیتے محمد ظلِ رحمت میں
تو پھر مایوسیاں لے کر یہ بیگانے کہاں جاتے
اگر رودادِ غم سنتے نہ حضرت بے نواؤں کی
تو ہم لے کر غم عصیاں کے افسانے کہاں جاتے
اگر نہ رحمتِ عالم کے قدموں میں جگہ ملتی
تو پھر ہم اپنے دل کے داغ دکھلانے کہاں جاتے
اگر ہوتے جبینوں پر نہ سجدوں کے نشاں مسلمؔ
تو روزِ حشر یہ حضرت کے پہچانے کہاں جاتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.