Font by Mehr Nastaliq Web

محمد کا نہ در ملتا تو دیوانے کہاں جاتے

محمد بخش مسلمؔ

محمد کا نہ در ملتا تو دیوانے کہاں جاتے

محمد بخش مسلمؔ

MORE BYمحمد بخش مسلمؔ

    محمد کا نہ در ملتا تو دیوانے کہاں جاتے

    لگی دل کی بجھانے کو یہ مستانے کہاں جاتے

    غریبوں بے سہاروں کو، اگر نہ آسرا ملتا

    تو یہ تقدیر کے مارے خدا جانے کہاں جاتے

    اگر اپنوں کو ہی لیتے محمد ظلِ رحمت میں

    تو پھر مایوسیاں لے کر یہ بیگانے کہاں جاتے

    اگر رودادِ غم سنتے نہ حضرت بے نواؤں کی

    تو ہم لے کر غم عصیاں کے افسانے کہاں جاتے

    اگر نہ رحمتِ عالم کے قدموں میں جگہ ملتی

    تو پھر ہم اپنے دل کے داغ دکھلانے کہاں جاتے

    اگر ہوتے جبینوں پر نہ سجدوں کے نشاں مسلمؔ

    تو روزِ حشر یہ حضرت کے پہچانے کہاں جاتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے