مری عذر گنہ گاری تو دیکھو
مری عذر گنہ گاری تو دیکھو
کہوں گا اپنی غفاری تو دیکھو
چھپائے دامنِ رحمت میں عصیاں
یہ اس کی شانِ ستاری تو دیکھو
خدا بھی آمد آمد کا تھا مشتاق
شبِ اسرا کی تیاری تو دیکھو
ملائک کہہ رہے ہیں انبیا سے
چلو حضرت کی اسواری تو دیکھو
گئے دم بھر میں آئے لا مکاں سے
کمالِ قدرتِ باری تو دیکھو
زباں پہ ربِ سلم امتی ہے
گنہگاروں کی غم خواری تو دیکھو
کہا ہے سوفَ یعطیکَ فترضیٰ
حبیب اپنے کی دلداری تو دیکھو
خیالِ روئے حضرت خواب میں ہے
مرے طالع کی بیداری تو دیکھو
عنایت ہو دوا خاکِ قدم کی
مسیحا میری بیماری تو دیکھو
میں کیوں کر سرخ رو محشر میں ہوں گا
مری رنگِ سیہ کاری تو دیکھو
شفاعت کو کھڑے ہیں شاہِ کونین
مری شانِ خطاواری تو دیکھو
دکھا دو آفتابِ رخ کا جلوہ
مرے مرقد کی اندھیاری تو دیکھو
ملی جنت مدینہ میں نہ پہنچا
ذرا وحشتؔ کی لاچاری تو دیکھو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.