نہ آفتاب بنا اور نہ ماہتاب بنا
نہ آفتاب بنا اور نہ ماہتاب بنا
نبی کا چہرۂ پُر نور لا جواب بنا
بندھا کچھ ایسا تصورِ براق حضرت کا
کہ حلقۂ چشم کا ہے حلقۂ رباب بنا
محیطِ عشقِ نبی کا جو آشنا میں ہوا
ہر ایک آبلہ دل کا مرے حباب بنا
کشاں کشاں جو مجھے لے چلا سوئے طیبہ
وہ عشق خضرِ رہِ منزلِ صواب بنا
جو نعت لکھنے میں آیا ضیائے رخ کا خیال
ہر اک دائرۂ حرف آفتاب بنا
نگاہِ فیض سے ہر قطرہ بن گیا دریا
ضیائے رخ سے ہر اک ذرہ آفتاب بنا
مری غزل پہ پڑی آپ کی جو چشمِ کرم
ہر ایک شعر پہ ہے صادِ انتخاب بنا
یہ خاکسار کی ہے عرض تم سے یا مولا
غلام اپنا برائے ابو تراب بنا
مکان بنا چکا وحشتؔ بہت بقول انیسؔ
تو اپنی قبر بھی اے خانماں خراب بنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.