آج تقدیر درِ شاہ پہ لے آئی ہے
آج تقدیر درِ شاہ پہ لے آئی ہے
بے پئے اب نہ اٹھیں گے یہ قسم کھائی ہے
تیری بخشش کے فدا تیرے کرم کے صدقے
منتظر تیرے کرم کا ترا شیدائی ہے
مردے اٹھ اٹھ کے قدم بوس ہوا کرتے ہیں
ٹھوکروں میں تری اعجازِ مسیحائی ہے
تم امیر ابن امیر اور میں فقیر ابنِ فقیر
خالی اس در سے پلٹنا بڑی رسوائی ہے
نامرادوں کی ہیں جس در سے مرادیں ملتی
اسی در پر مری قسمت مجھے لے آئی ہے
تم ہی فرماؤ کدھر جاؤں کہوں میں کس سے
بے کسوں کی اسی سرکار میں سنوائی ہے
اب تو آتا ہے مجھے اپنے تڑپنے میں مزہ
میں تماشہ ہوں تری آنکھ تماشائی ہے
ان دنوں خوب گذرتی ہے مزے سے بالاؔ
درِ سرکار ہے یہ سر ہے جبیں سائی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.