Font by Mehr Nastaliq Web

خدا معلوم کیا ہے نامۂ اعمال خوشتر میں

محمد ابراہیم صدیقی

خدا معلوم کیا ہے نامۂ اعمال خوشتر میں

محمد ابراہیم صدیقی

MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی

    خدا معلوم کیا ہے نامۂ اعمال خوشتر میں

    کہ اس کو رحمتیں خود ڈھونڈتی پھرتی ہیں محشر میں

    کیا ہے پیش تو تم نے نگاہ فیض پرور میں

    اگر عصیاں نہ نکلے اے فرشتو میرے دفتر میں

    جہاں چاہوں گا جب چاہوں گا جنت ہوگی دم بھر میں

    مدینے کی فضائیں ہیں نگاہ جلوہ پرور میں

    مٹا کر ساری دولت کو کہا صدیق نے ہنس کر

    فقط اللہ کا اک نام ہے باقی بھرے گھر میں

    سر میزاں مجھے حسن عمل کی فکر سے مطلب

    متاعِ دین و ایماں ہے تو میرے دیدۂ تر میں

    مدینے کی گلی کوچوں میں آوارہ پھرا مجھ کو

    لکھی ہیں ٹھوکریں یا رب اگر میرے مقدر میں

    سہارے سے انہی کے ساحلِ بخشش ملا مجھ کو

    وہی اشک ندامت تھے جو میرے دیدۂ تر میں

    قیامت عین رحمت جان رحمت حاصل رحمت

    اب اس سے اور بڑھ کر کیا کہ ہے دیدارِ محشر میں

    نہ وہ ہوتے اگر خوشترؔ نہ یہ بزمِ جہاں ہوتی

    انہی کا فیض ہے جو ربط ہے ان چار عنصر میں

    مأخذ :
    • کتاب : Khushbu-e-Khushtar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے