خدا معلوم کیا ہے نامۂ اعمال خوشتر میں
خدا معلوم کیا ہے نامۂ اعمال خوشتر میں
کہ اس کو رحمتیں خود ڈھونڈتی پھرتی ہیں محشر میں
کیا ہے پیش تو تم نے نگاہ فیض پرور میں
اگر عصیاں نہ نکلے اے فرشتو میرے دفتر میں
جہاں چاہوں گا جب چاہوں گا جنت ہوگی دم بھر میں
مدینے کی فضائیں ہیں نگاہ جلوہ پرور میں
مٹا کر ساری دولت کو کہا صدیق نے ہنس کر
فقط اللہ کا اک نام ہے باقی بھرے گھر میں
سر میزاں مجھے حسن عمل کی فکر سے مطلب
متاعِ دین و ایماں ہے تو میرے دیدۂ تر میں
مدینے کی گلی کوچوں میں آوارہ پھرا مجھ کو
لکھی ہیں ٹھوکریں یا رب اگر میرے مقدر میں
سہارے سے انہی کے ساحلِ بخشش ملا مجھ کو
وہی اشک ندامت تھے جو میرے دیدۂ تر میں
قیامت عین رحمت جان رحمت حاصل رحمت
اب اس سے اور بڑھ کر کیا کہ ہے دیدارِ محشر میں
نہ وہ ہوتے اگر خوشترؔ نہ یہ بزمِ جہاں ہوتی
انہی کا فیض ہے جو ربط ہے ان چار عنصر میں
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.