دل غم شبیر میں غم کا سمندر ہوگیا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)
دل غم شبیر میں غم کا سمندر ہوگیا
اشک خوں موج امم میں ایک گوہر ہوگیا
اللہ اللہ خدمت ابن علی کی جراتیں
عظمت اسلام کا نقشہ اجا گر ہوگیا
کام آکر ہی رہی تشنہ لبی شبیر کی
عاصیو! کیا خوف محشر؟ اپنا کوثر ہوگیا
یہ مئے حب نبی کا قلب حُر میں جوش تھا
دین حق پر شوق سے قربان بڑھ کر ہوگیا
صفحۂ تاریخ خوں آلود عالم بد حواس
کربلا کا واقعہ کیا ایک محشر ہوگیا
رحمتوں نے لے لیا بڑھ کر وہیں آغوش میں
کامراں شبیر جب گھوڑے سے گر کر ہوگیا
اللہ اللہ کوشش شبیر کا یہ ما حصل
دل شہید جلوہ یاد پیمبر ہوگیا
برق بن کر رن میں لہرانے لگی تیغ حسین
اور گری جس پر دو ٹکڑے اس کا پیکر ہوگیا
ہو گئی پوری وہیں تفسیر اکملت لكم
جب شہید کربلا فرزند حیدر ہوگیا
جو ہوا قربان ان پر بن گیا خالق کا دوست
حر یہ کیا لطف قسیم حوض کوثر ہوگیا
خلد جلوہ بن گئی ہے ہر نگاہ آرزو
جب سے خوشترؔ دل اسیر یاد اصغر ہوگیا
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.