ہے ان کے تصور میں یہ عالم جو طرب کا
ہے ان کے تصور میں یہ عالم جو طرب کا
پر کیف اشارہ ہے یقیناً یہ طلب کا
دل مائل پرواز ہے جاں رقص کناں ہے
کیا بخت رسا آ گیا فرمان طلب کا
اس صبح کی اب شام ہی یا رب نہ کبھی ہو
سر ہے مرا اور در ہے شہنشاہ عرب کا
فرمائیں گے آقا بہر عنوان شفاعت
آتا ہے مچلنا مجھے دامن پہ غضب کا
دامن ِشہ دیں میں گنہگار چھپے ہیں
اب پوچھنا کیا زاہدوں بخشش کے سبب کا
ایمان کے دن آئے تو آئے تو عرفان کی راتیں
چمکا سر فاراں سے وہ جب چاند عرب کا
دامن میں لیے بیٹھا ہوں جنت کی بہاریں
ہے فیض تصور یہ شہنشاه عرب کا
یہ سخت زمیں اور غزل نعت میں لکھنا
ہے خوشترؔ رضوی پہ کرم شاہ عرب کا
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.