Font by Mehr Nastaliq Web

ہے ان کے تصور میں یہ عالم جو طرب کا

محمد ابراہیم صدیقی

ہے ان کے تصور میں یہ عالم جو طرب کا

محمد ابراہیم صدیقی

MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی

    ہے ان کے تصور میں یہ عالم جو طرب کا

    پر کیف اشارہ ہے یقیناً یہ طلب کا

    دل مائل پرواز ہے جاں رقص کناں ہے

    کیا بخت رسا آ گیا فرمان طلب کا

    اس صبح کی اب شام ہی یا رب نہ کبھی ہو

    سر ہے مرا اور در ہے شہنشاہ عرب کا

    فرمائیں گے آقا بہر عنوان شفاعت

    آتا ہے مچلنا مجھے دامن پہ غضب کا

    دامن ِشہ دیں میں گنہگار چھپے ہیں

    اب پوچھنا کیا زاہدوں بخشش کے سبب کا

    ایمان کے دن آئے تو آئے تو عرفان کی راتیں

    چمکا سر فاراں سے وہ جب چاند عرب کا

    دامن میں لیے بیٹھا ہوں جنت کی بہاریں

    ہے فیض تصور یہ شہنشاه عرب کا

    یہ سخت زمیں اور غزل نعت میں لکھنا

    ہے خوشترؔ رضوی پہ کرم شاہ عرب کا

    مأخذ :
    • کتاب : Khushbu-e-Khushtar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے