Font by Mehr Nastaliq Web

مٹی ظلمت فضا بدلی زمانہ شاد کام آیا

محمد ابراہیم صدیقی

مٹی ظلمت فضا بدلی زمانہ شاد کام آیا

محمد ابراہیم صدیقی

MORE BYمحمد ابراہیم صدیقی

    مٹی ظلمت فضا بدلی زمانہ شاد کام آیا

    نکل کر کفر کی بدلی سے جو ماہ تمام آیا

    خبر ہے چشم حیرت بیں تجھے یہ کیا مقام آیا

    تقرب کا جو سازِ اُدن مِنی سے پیام آیا

    دمِ آخر زباں پر اللہ اللہ کس کا نام آیا

    ڈھلک کر آنکھ سے آنسو جو آیا شاد کام آیا

    سفینہ نے تلاطم ہی کی خود دنیا بدل ڈالی

    دمِ طوفاں لبِ ملاح پہ یہ کس کا نام آیا

    کچھ ایسے مست ہیں میخانۂ توحید کے میکش

    خبر یہ بھی نہیں ان کو کہ کب محفل میں جام آیا

    سر کِوثر حبابوں کے کٹورے بن گئے سارے

    تمہارا نام لیتا جو ادھر کو تشنہ کام آیا

    یہ کیوں خاطر افسردہ ہے غم طوفاں ہے کیوں خوشترؔ

    سمجھ لو پار ہے بیڑا جو لب پہ ان کا نام آیا

    مأخذ :
    • کتاب : Khushbu-e-Khushtar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے