مٹی ظلمت فضا بدلی زمانہ شاد کام آیا
مٹی ظلمت فضا بدلی زمانہ شاد کام آیا
نکل کر کفر کی بدلی سے جو ماہ تمام آیا
خبر ہے چشم حیرت بیں تجھے یہ کیا مقام آیا
تقرب کا جو سازِ اُدن مِنی سے پیام آیا
دمِ آخر زباں پر اللہ اللہ کس کا نام آیا
ڈھلک کر آنکھ سے آنسو جو آیا شاد کام آیا
سفینہ نے تلاطم ہی کی خود دنیا بدل ڈالی
دمِ طوفاں لبِ ملاح پہ یہ کس کا نام آیا
کچھ ایسے مست ہیں میخانۂ توحید کے میکش
خبر یہ بھی نہیں ان کو کہ کب محفل میں جام آیا
سر کِوثر حبابوں کے کٹورے بن گئے سارے
تمہارا نام لیتا جو ادھر کو تشنہ کام آیا
یہ کیوں خاطر افسردہ ہے غم طوفاں ہے کیوں خوشترؔ
سمجھ لو پار ہے بیڑا جو لب پہ ان کا نام آیا
- کتاب : Khushbu-e-Khushtar
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.