مرے مولیٰ نے جو رویا میں ہے آنا چھوڑا
مرے مولیٰ نے جو رویا میں ہے آنا چھوڑا
دلِ بے چین نے آرام کا پانا چھوڑا
اے صبا جا کے یہ محبوبِ خدا سے کہیو
اپنے مشتاق کو کیوں جلوہ دکھانا چھوڑا
شوقِ دیدارِ نبی دور نہ ہو تو ہم سے
ہم نے خاطر سے تری سارا زمانہ چھوڑا
خواب رویا میں مرے تم نے جو آنا چھوڑا
پر مرے شوق نے طیبہ کا نہ جانا چھوڑا
جب سے تقدیر مری سوئی ہے فرقت میں تری
بخت داروں نے مرے مجھ کو ہنسانا چھوڑا
وقت تو آ گیا قم قم کا مسیحا آؤ
تیرے بیمار نے آنکھیں بھی پھرانا چھوڑا
اے شہِ عزو شرف خذ بیدی خذ بیدی
پکڑا داماں ہے ترا سارا زمانہ چھوڑا
خوابِ غفلت میں رہے ہند میں طیبہ نہ گئے
واں کے ذوالحجہ کا افسوس دوگانہ چھوڑا
چلو کعبہ کو ریاضؔ ہے یہی انسب تجویز
ہند کو ہم نے بھی بطحیٰ سے ہے آنا چھوڑا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.