نہیں ملتی کہیں پر بھی مثالِ حضرتِ قاتل
دلچسپ معلومات
نوٹ : یہ مشاعرہ مؤرخہ ۳ مارچ ۱۹۵۱ء بروز سنیچر، عیدگاہ میدان، کراچی میں حضرت قاتلؔ اجمیری کی سہ ماہی فاتحہ کے موقع پر منعقد ہوا تھا، اس موقع کے لیے مصرعِ طرح ’’جمالِ غوث الاعظم ہے جمالِ حضرتِ قاتل‘‘ حضرت عبدالرحیم ارمانؔ اجمیری نے پیش کیا اور اس مشاعرہ کی صدارت کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل تھا۔
نہیں ملتی کہیں پر بھی مثالِ حضرتِ قاتل
یہ بھی کچھ کم ہے کیا اے دل کمالِ حضرتِ قاتل
نگاہِ ناز سے مردہ دلوں کو زندگی بخشی
میں شاہد ہوں یہ ہے ادنیٰ کمالِ حضرتِ قاتل
نظر میں کیا سمائیں اب یہ حورانِ جناں واعظ
کہ ان آنکھوں نے دیکھا ہے جمالِ حضرت قاتل
خطاب خاص پایا ہے مقدر تیز ہے میرا
مجھے کہتی ہے سب دنیا بلالِ حضرتِ قاتل
میرا ایمان ہے یوسفؔ عقیدہ ہے میرا یوسف
جمال غوث الاعظم ہے جمال حضرتِ قاتل
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 35)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.