پھر سوئے حرم یہ دل شوریدہ رواں ہے
پھر سوئے حرم یہ دل شوریدہ رواں ہے
پھر ہر غمِ ہستی سے حفاظت ہے اماں ہے
پھر سائے میں ہم روضۂ اطہر کے رہیں گے
دیکھیں گے تجھے تو غم ایام کہاں ہے
اک عالمِ ہیبت میں نظر کھوئی ہوئی ہے
جلوے ہیں مگر طاقتِ دیدار کہاں ہے
جس نام کے صدقے میں ملی دولتِ کونین
وہ اسم تو ہر وقت میرے وردِ زبان ہے
کیفیؔ میں درِ شافعِ محشر کا گدا ہوں
کیا غم ہے گناہوں کا اگر بارِ گراں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.