میرے آقا ترے در پر غلام ابنِ غلام آیا
میرے آقا ترے در پر غلام ابنِ غلام آیا
کہ خوش بختوں کی فہرست میں اب اس عاصی کانام آیا
میرے جذبے سنورنے کی ہوئی جب ابتدا مولیٰ
یہ فیضِ گریہ و زاری حضوری کا پیام آیا
متاعِ بے بہا مجھ کو ملی، میرے کرم گستر
حضوری کا ہر اک لمحہ میرے جذبوں کے نام آیا
شعورِ آگہی پایا حرم میں سجدہ ریزی سے
کہ ہر سجدے میں لطفِ حاصلِ عمرِ دوام آیا
میں نازاں ہوں ہوئی مجھ پر بہت احسان کی بارش
کہ نجمؔ اس در سے واپس با مراد و شاد کام آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.