Font by Mehr Nastaliq Web

ہونے کو تو ہو گی دلِ مضطر کی دوا بھی

منور بدایونی

ہونے کو تو ہو گی دلِ مضطر کی دوا بھی

منور بدایونی

MORE BYمنور بدایونی

    ہونے کو تو ہو گی دلِ مضطر کی دوا بھی

    اکسیر ہے لیکن ترے دامن کی ہوا بھی

    لب پر ہے ترا نام تو کیا اور طلب ہو

    اے صلِّ علی یہ تو دوا بھی ہے دعا بھی

    میں تم سے وہ کہتا ہوں جو کہنا ہے خدا سے

    جب تم مری سن لو گے تو سن لے گا خدا بھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے