Font by Mehr Nastaliq Web

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

منور بدایونی

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

منور بدایونی

MORE BYمنور بدایونی

    نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

    جسے چاہیں اس کو نواز دیں یہ درِ حبیب کی بات ہے

    جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    وہ خدا نہیں بخدا نہیں مگر وہ خدا سے جدا نہیں

    وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیب کی بات ہے

    وہ مچل کے راہ میں رہ گئی یہ تڑپ کے در سے لپٹ گئی

    وہ کسی امیر کی آہ تھی یہ کسی غریب کی بات ہے

    تجھے اے منورِؔ بے نوا درِ شاہ سے چاہیے اور کیا

    جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے