مجھ کو حضور آپ نے در پہ بلا لیا
مجھ کو حضور آپ نے در پہ بلا لیا
بس آج میں نے گوہرِ مقصود پا لیا
آنکھیں کھلیں تو آپ کی چوکھٹ تھی سامنے
میں نے سرِ نیاز کو فوراً جھکا لیا
میں گرتا پڑتا آگیا قدموں میں آپ کے
اور آپ نے اٹھا کے گلے سے لگا لیا
آنسو ندامتوں کے جو دامن میں گر گئے
دستِ قبولیت نے انہیں بھی اٹھا لیا
قسمت سے میری دور ہوئی تیرگی تمام
میں نے چراغِ عشقِ محمد جلا لیا
اس پر حرام ہو گئی آتش حجیم کی
جس کو میرے حضور نے اپنا بنا لیا
اک سبز سبز روشنی دل میں اتر گئی
آنکھوں میں، میں نے گنبدِ خضرا بسا لیا
عصیاں کے دشت دشت بھٹکتی تھی زندگی
آقا کی رہبری نے منور بچا لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.