سرورِ دو عالم کا اس قدر سہارا ہے
سرورِ دو عالم کا اس قدر سہارا ہے
اب نہ خوفِ دنیا ہے اور نہ خوفِ عقبیٰ ہے
میرے عہد کی دنیا آنکھ ہی نہیں رکھتی
ان کے روئے زیبا سے ہر طرف اجالا ہے
ان کی دست افشانی بھولتی نہیں مجھ کو
بے حساب مانگا تھا بے حساب پایا ہے
میری ان نگاہوں میں کوئی شے نہیں جچتی
جب سے ان نگاہوں میں آپ کا سراپا ہے
بارگاهِ رحمت میں عرضِ مدعا ہوگا
طیبہ جارہا ہوں میں آپ نے بلایا ہے
وادیِ مدینہ میں آشیاں بنائیں گے
ایک ہی تو دنیا میں کام کا ٹھکانہ ہے
مکہ و مدینہ ہی اصل میں دو عالم ہیں
اک کا نام دنیا ہے اک کا نام عقبیٰ ہے
آستانِ رحمت کو چھوڑ کر کہاں جائیں
زندگی کا ہر ساماں اس جگہ مہیا ہے
آپ کے تعلق پر دو جہان قرباں ہوں
آپ جب ہمارے ہیں کیا کسی کی پرواہ ہے
آپ کے حضور ان کو نذر کرنے لایا ہوں
چند اشکِ بے قسمت میرا کل اثاثہ ہے
آپ کی نگاہوں میں ایک روز دم ٹوٹے
آپ کی قسم مجھ کو اب یہی تمنا ہے
اے منیرؔ اب تیرا اور کیا مقدر ہو
تو حضورِ خواجہ میں آج نعتِ پیرا ہے
طیبہ کس کو کہتے ہیں مجھ غریب سے پوچھو
بے کسوں کا ملجا ہے بے گھروں کا ماوی ہے
ہر طرف مدینہ میں زائروں کے جھرمٹ ہیں
جس طرف بھی دیکھا ہے رحمتوں کا میلہ ہے
منظرِ مدینہ میں ڈھل گیا تھا میں خود بھی
میں نے جس طرح دیکھا کم کسی نے دیکھا ہے
سرورِ دو عالم کی گرمیِ مطب دیکھو
عالمِ مریضاں ہے اور اک مسیحا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.