Font by Mehr Nastaliq Web

میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

منیر قصوری

میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

منیر قصوری

MORE BYمنیر قصوری

    میری الفت مدینے سے یوں ہی نہیں میرے آقا کا روضہ مدینے میں ہے

    میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھنچوں میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے

    عرشِ اعظم سے جس کی بڑی شان ہے روضۂ مصطفیٰ جس کی پہچان ہے

    جس کا ہم پلا کوئی محلہ نہیں، ایک ایسا محلہ مدینے میں ہے

    پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو

    کاش سرکار اک بار مجھ سے کہیں، اب تیرا مرنا جینا مدینے میں ہے

    سرورِ دو جہاں سے دعا ہے مری، ہاں بد و چشم تر التجا ہے میری

    ان کی فہرست میں میرا بھی نام ہو، جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے

    جب نظر سوئے طیبہ روانہ ہوئی ساتھ دل بھی گیا ساتھ جاں بھی گئی

    میں منیرؔ اب رہوں گا یہاں کس لیے، میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے