ادب سے ہو قلم اس وقت چالاک
ادب سے ہو قلم اس وقت چالاک
کہ ہے منظور حمدِ ایزد پاک
یہ دریا اس کی قدرت کا ہے لاحل
یہاں پر تو سنبھل کر سرکے بل چل
ذرا دیکھو تو قدرت کی نشانی
بچھا فرشِ زمیں بالائے پانی
کیا ہے بے ستوں برپا فلک کو
جگہ اس پر عطا کی ہے ملک کو
معلق اس پہ مہر و ماہ و انجم
خرد انساں کی جس کو دیکھ کر گم
نمود انساں کی مشتِ خاک سے ہے
وہ مشتِ خاک دستِ پاک سے ہے
جو راہ غور سے کیجے نظارہ
تو ہے ہر شے میں قدرت آشکارا
بیاں ہو کب بشر سے حمد رب کی
زباں عاجز یہاں ہوتی ہے سب کی
یہی بہتر اسے برحق سمجھ کر
ہر اک ساعت بہ دل سجدہ کیا کر
ترے محبوبِ خاص اے میرے سرمد
شفیع خلق نام اس کا محمد
شہِ اقلیم وہ ہر دوسرا ہیں
شفیع المذنبیں روزِ جزا ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.