Font by Mehr Nastaliq Web

ادب سے ہو قلم اس وقت چالاک

منشی نند کشور

ادب سے ہو قلم اس وقت چالاک

منشی نند کشور

MORE BYمنشی نند کشور

    ادب سے ہو قلم اس وقت چالاک

    کہ ہے منظور حمدِ ایزد پاک

    یہ دریا اس کی قدرت کا ہے لاحل

    یہاں پر تو سنبھل کر سرکے بل چل

    ذرا دیکھو تو قدرت کی نشانی

    بچھا فرشِ زمیں بالائے پانی

    کیا ہے بے ستوں برپا فلک کو

    جگہ اس پر عطا کی ہے ملک کو

    معلق اس پہ مہر و ماہ و انجم

    خرد انساں کی جس کو دیکھ کر گم

    نمود انساں کی مشتِ خاک سے ہے

    وہ مشتِ خاک دستِ پاک سے ہے

    جو راہ غور سے کیجے نظارہ

    تو ہے ہر شے میں قدرت آشکارا

    بیاں ہو کب بشر سے حمد رب کی

    زباں عاجز یہاں ہوتی ہے سب کی

    یہی بہتر اسے برحق سمجھ کر

    ہر اک ساعت بہ دل سجدہ کیا کر

    ترے محبوبِ خاص اے میرے سرمد

    شفیع خلق نام اس کا محمد

    شہِ اقلیم وہ ہر دوسرا ہیں

    شفیع المذنبیں روزِ جزا ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے