جب مئے عشق نبی سے مجھے مستی ہوگی
جب مئے عشق نبی سے مجھے مستی ہوگی
بیخودی ہوگی بلندی نہ یہ پستی ہوگی
بزم عشاق میں جب بادہ پرستی ہوگی
یاد میں ساقی کوثر ہی کی ہستی ہوگی
جیتے جی روضہ اقدس کو نہ آنکھوں دیکھا
روح جنت میں بھی ہوگی تو ترستی ہوگی
میں اگر خاک نشینِ در احمد ہوں گا
رفعت عرش کی ہمسر مری پستی ہوگی
عاشق زار محمد میں ہوا پیری میں
ہستی خضر سے کیا کم مری ہستی ہوگی
سرور دیں کی ملی دولت دیدار جسے
پاس اس کے نہ پھٹکتی تہی دستی ہوگی
پی گیا بھر کے جو جام مئے عشق احمد
اس کی مستی کو نہ ہرگز کبھی پستی ہوگی
کچھ غرض جنت و دوزخ سے نہیں ہے ساقیؔ
ان کے مستوں کے لیے اور ہی بستی ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.