نہ غرور ہے کسی کام پر نہ سجود پر نہ قیام پر
نہ غرور ہے کسی کام پر نہ سجود پر نہ قیام پر
مگر اے محمدِ مصطفیٰ مجھے فخر آپ کے نام پر
جو ہجومِ یاس میں دفتا کبھی لو لگائی حضور سے
تو چراغ آس کے جل گئے میرے ہر طرف در و بام پر
مرے آقا! مجھ پہ نظر وہی جو قریش مکہ پہ تھی کبھی
کہ جو پست تھے جو حقیر تھے وہی پہنچے اعلیٰ مقام پر
ہے جو آج جھولی بھری ہوئی یہ بھی بھیک ہے درِ پاک کی
سدا کاش لطف و کرم رہے یوں ہی مجھ سے ادنٰی غلام پر
میں بتانِ دہر سے کیوں ڈروں انہیں ریزہ ریزہ نہ کیوں کروں
مجھے لاج آپ کے حکم کی، مجھے ناز آپ کے کام پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.