حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جاں ان پر نثارا کروں میں
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں
تیرے نام پر سر کو قربان کر کے
تیرے سر سے صدقے اتارا کروں میں
میرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں
تمہاری ہی جانب اشارا کروں میں
خدا را اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
دمِ واپسی تو نظارا کروں میں
خدا خیر سے لائے وہ دن بھی نوری
مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں
مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کر لے
سوا تیرے سب سے کنارہ کروں میں
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں
تیرے در سے اپنا گزارا کروں میں
تیرا ذکر لب پر خدا دل کے اندر
یوں ہی زندگانی گزارا کروں میں
دمِ واپسی تک تیرے گیت گاؤں
محمد محمد پکارا کروں میں
تیرے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے
کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.