Font by Mehr Nastaliq Web

نبیوں کے نبی امی_لقبی

مظفر وارثی

نبیوں کے نبی امی_لقبی

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    نبیوں کے نبی

    امی لقبی

    کونین کے والی

    میں تیرا سوالی

    کر مجھ کو عطا

    تھوڑی سی ضیا

    تارے تیرے موتی

    چندا تیری تھالی

    یہ کس نے کہا

    سایہ ہی نہ تھا

    مجھ کو نظر آیا

    ہر سو تیرا سایا

    جو تیرا ہوا

    رب اس کا ہوا

    پائی ہے خدائی

    جس نے تجھے پایا

    اے سرور دیں

    شب جس کی نہیں

    بانٹے وہ سویرا

    کملی تیری کالی

    ساقی میرا تو

    بھر میرا سبو

    دریا ہوں کہ جھیلیں

    سب تیری سبیلیں

    خورشید حرا

    ٹھوکر سے گرا

    آہوں کی طنابیں

    دوری کی فصیلیں

    فردوس میرا

    روضہ ہے تیرا

    پلکوں میں پرو دے

    دیوار کی جالی

    محبوب خدا

    اے نور ہدیٰ

    چمکے میرا سینہ

    بن جائے مدینہ

    کرتی ہے انا

    اب تیری ثنا

    اس پار لگا دے

    لفظوں کا سفینہ

    رکھ میرا بھرم

    دے شاہ امم

    حسان کی نظریں

    آواز بلالی

    بس ایک یہی

    حسرت ہے میری

    دل موت سے پہلے

    کچھ تجھ سے بھی کہہ لے

    بھڑکے جو طلب

    ہو درد عجب

    اب تیرا مظفرؔ

    یادوں سے نہ بہلے

    رحمت کی نظر

    ہو جائے اگر

    بن جائے گلستاں

    سکھی ہوئی ڈالی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے