مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں
مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں
ان کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں
ان کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یا رب
سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں
زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا
اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہو جاؤں
میرا محبوب ہے وہ راہبر کون و مکاں
جن کی آہٹ بھی میں سن لوں گو خضر ہو جاؤں
اس قدر عشقِ نبی ہو کہ بھلا دوں خود کو
اس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤں
ضرب دوں خود کو جو ان سے تو لگوں لا تعداد
وہ جو مجھ سے نکل جائے تو صفر ہو جاؤں
جو پہنچتی رہے ان تک جو رہے محوِ طواف
ایسی آواز بنوں ایسی نظر ہو جاؤں
آرزو اب تو مظفرؔ جو کوئی ہے تو یہ ہے
جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.