Font by Mehr Nastaliq Web

مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں

مظفر وارثی

مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    مر کے اپنی ہی اداؤں پہ امر ہو جاؤں

    ان کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں

    ان کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یا رب

    سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں

    زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا

    اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہو جاؤں

    میرا محبوب ہے وہ راہبر کون و مکاں

    جن کی آہٹ بھی میں سن لوں گو خضر ہو جاؤں

    اس قدر عشقِ نبی ہو کہ بھلا دوں خود کو

    اس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤں

    ضرب دوں خود کو جو ان سے تو لگوں لا تعداد

    وہ جو مجھ سے نکل جائے تو صفر ہو جاؤں

    جو پہنچتی رہے ان تک جو رہے محوِ طواف

    ایسی آواز بنوں ایسی نظر ہو جاؤں

    آرزو اب تو مظفرؔ جو کوئی ہے تو یہ ہے

    جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے