ماں کے حیدر باپ کے زید اور محمد کے علی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
ماں کے حیدر باپ کے زید اور محمد کے علی
تیری ہستی خامۂ قدرت کا شہ کارِ جلی
میں بتاؤں خانہ کعبہ میں کیوں پیدا ہوا
بطنِ مادر میں ہی تُو توحید کا شیدا ہوا
تیرا ہر لمحہ رہا شاہِ رسل کے سائے میں
جس طرح خوشبو چڑھے پروان گل کے سائے میں
ساتھ رکھتے تھے مرے آقا محاذوں پر تجھے
کیوں نہ مانوں قوتِ بازوئے پیغمبر تجھے
ناز ہر میداں کو تھا تیری ادائے حرب پر
سیکڑوں سجدے فدا تلوار کی اک ضرب پر
معرفت کا گھر ترا دل مسکنِ حکمت دماغ
ہاتھ میں اسلام کے تیری بصیرت کے چراغ
ایک منزل کے مسافر صوفیوں کے سلسلے
سب جدا رستوں پہ نکلے سب ہی تجھ سے جا ملے
تیری چو کھٹ پر زمانے بھر کے ان داتا گریں
تو ہے وہ گہرا سمندر جس میں سب دریا گریں
تیرے قاتل کی عداوت اپنے ہاتھوں مر گئی
حشر تک زندہ تجھے تیری شہادت کر گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.